loader

سعودی عرب ٹیکس میں 3گنا اضافہ، گزارا الائونس بند، 60 ارب ڈالرقرض لینے کا اعلان۔

  • Created by: editor
  • Published on: 12 May, 2020
  • Category: International / International
  • Posted By: Editor

Post Info

سعودی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ریاست تیل کی کم قیمتوں اور کرونا کی وجہ سے معاشی بحران کے دوران ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کو 3 گنا بڑھائے گی اور شہریوں کو ماہانہ ادائیگی روک دے گی۔ ان اقدامات سے عوام کی زندگی متاثر ہوگی اور ان میں ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب کرونا وائرس اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہونے والے معاشی نقصانات سے نمٹنے کے لیے سرکاری اخراجات کو کم کرنے کے ہنگامی منصوبے کو آگے لے کر جارہی تھی۔ وزیر خزانہ محمد الجدان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ رہائشی الاؤنس کو جون 2020 سے روک دیا جائے گا اور یکم جولائی سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا جائے گا۔ ملک 60 ارب ڈالر قرض لے گا تاکہ بھاری بجٹ خسارے کو پورا کیا جاسکے۔عالمی سطح پر خام مال کی مانگ کی مانگ میں کمی آئی ہے اور تیل سے آمدنی میں ’زبردست کمی‘ کے دوران ریاستی مالیات کو تیز کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔بڑے سرکاری منصوبوں پر اخراجات ’منسوخ، توسیع یا ملتوی‘ کر رہی ہے۔وزیر خزانہ نے گزشتہ ہفتے کرونا وائرس اور اور تیل کی ریکارڈ کم قیمتوں کی وجہ سے نمٹنے کے لیے ’تکلیف دہ‘ اور ’سخت‘ اقدامات سے خبردار کیا تھا۔محمد الجدان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں رواں سال کے آغاز سے دو تہائی تک کم ہونے کی وجہ سے ریاض اس سے اپنی آدھی آمدنی کھوسکتا ہے جو ملک کے ریونیو کا 70 فیصد حصہ ہے۔ٹیکس وصولی کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔سعودی عرب نے کچھ سرکاری اداروں کے کچھ آپریشنل اور مالی اخراجات کو منسوخ کرنے توسیع یا ملتوی کرنے کے بھی کچھ اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس سے 100ارب سعودی ریال (2ارب66کروڑ امریکی ڈالر) کی بچت ہو گی۔ یکم جون سے سعودی عرب کے سرکاری ملازمین کو ماہانہ دیا جانے والا ایک ہزار ریال کا گزارا الاؤنس بھی بند کردیا جائے گا۔یہ الاؤنس 2018 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ سرکاری ملازمین کو ویٹ کے نفاذ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ سے بچایا جاسکے۔سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدان کا کہنا ہے کہ 'یہ اقدامات تکلیف دہ ہیں لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے درپیش موجودہ صورتحال میں درمیانے اور طویل المدتی مالیاتی و اقتصادی توازن کے حصول کیلئے بہت ضروری ہیں تاکہ ہم کرونا کی وجہ سے درپیش چینلجز سے کم سے کم نقصان کے ساتھ نبردآزما ہوسکیں'۔ 

Related Posts