loader

حکومتی و اپوزیشن جماعتوں میں31 جولائی تک جھاڑو پھر جائیگا: شیخ رشید

  • Created by: editor
  • Published on: 21 May, 2020
  • Category: News / News
  • Posted By: Editor

Post Info

وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 31جولائی تک حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں جھاڑو پھر جائے گا۔ چینی آٹے اور آئی پی پیز والے سب عوام کے سامنے پیش ہوں گے۔ ٹرین آپریشن جزوری طور پر بحال ہوگیا ہے۔ تمام صوبوں کا شکرگزار ہوں۔ آن لائن ٹکٹ میں خامیاں ہیں جسے دور کریں گے۔ ملتان، سکھر، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی سے ٹرینیں چلی ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو راولپنڈی ریلوے سٹیشن کے دورہ اور گرین لائن ٹرین کے ذریعے لاہور جانے والے مسافروں سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ وفاقی وزیر ریلوے خود بھی گرین لائن ٹرین میں سوار ہوکر لاہور روانہ ہوئے۔ روانگی سے قبل ریلوے سٹیشن پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ پوری کوشش ہے ایس او پیزپر عمل ہو۔ پوری دنیا میں 70فیصد مسافروں کے ساتھ فاصلہ رکھا گیا ہے۔ ہم نے 60فیصد مسافروں کے ساتھ فاصلہ رکھا۔ سندھ حکومت نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ صرف ٹی وی پر اعتراض کیا۔31جولائی تک بہت سی تحقیقات ہوں گی، جھاڑو پھرے گا۔ شہباز شریف ٹارزن بنے ہوئے ہیں، انہیں پتہ ہے ان کا نام ای سی ایل میں آرہا ہے۔ اسلام آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے31 مئی تک ٹرینوں کے موجودہ انتظامات جاری رہیں گے جبکہ لاہور میں ریلوے کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ صوبوں کے تعاون خصوصاً سندھ حکومت کے شکر گزار ہیں ان کا اعتراض صرف میڈیا کی حد تک تھا، 20 مئی سے 31 مئی تک 30 ٹرینیں چلیں گی، جب تک وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ وزیراعظم عمران خان ہیں، کسی کارکردگی کی ضرورت نہیں، نیب ترمیم نہیں ہونی چاہئیں، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، چینی والے، آئی پی پیز والے آٹا بحران والے سب عوام کے سامنے بے نقاب ہوں گے، انہوں نے اعتراف کیا کہ 24 گھنٹے قبل آن لائن ٹکٹس بند کرنا غلطی تھی، عوام کی اکثریت کو آن لائن ٹکٹ خریدنے کا طریقہ کار معلوم نہیں۔ تاہم عید کے بعد آن لائن کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی ٹکٹس کی فروخت بحال کردی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلوے کا خسارہ بہت بڑا لیکن یہ حکومت کا ادارہ ہے جسے عوام کو سہولت پہنچانی ہے، عوام سے کاروبار نہیں کرنا ان کی خدمت کرنا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا سخت نقصان ہورہا ہے لیکن اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا کیوں کہ حکومت کا کام حکومت کرنا ہے دکاندار کی طرح نفع دیکھنا نہیں۔ 

Related Posts