loader

پلاسٹک سازی کے کیمیکلز دماغی خلیات کو نقصان پہنچاسکتے ہیں

  • Created by: editor
  • Published on: 14 Apr, 2021
  • Category: Fitness / Fitness
  • Posted By: Editor

Post Info

جرمنی: سائنسدانوں ںے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ پلاسٹک سازی میں استعمال ہونے والے دو عام کیمیکل دماغ کو بہت شدید نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

پلاسٹک کی تھیلیاں ہوں یا بوتلیں ان میں بی پی اے اور بی پی ایس عام استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں بسفینول اے کو بی پی اے اور  بسفینول ایس کو بی پی ایس کہاجاتا ہے۔ ایک عرصے سے ان دونوں کیمیائی اجزا  کے مضر اثرات پر بحث ہوتی رہی ہے لیکن حالیہ تحقیق سے  بی پی اے اور بی پی ایس کے انسانی دماغی خلیات پر مضر اثرات ریکارڈ ہوئے ہیں اور شاید یہ منفی اثرات بہت دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

بی پی اے کئی عشروں سے غذا، مشروبات اور دیگر اشیا کی پیکنگ میں استعمال ہورہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اینڈوکرائن غدود کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سرطان کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ اس کے بعد بی پی اے سے پاک پلاسٹک سازی کا دور شروع ہوا لیکن کہیں کہیں اس سے پلاسٹک بن رہے ہیں۔

پھر بی پی اے کی جگہ بسفینول ایس یا بی پی ایس کو پلاسٹک سازی میں متعارف کرایا گیا اور بعض تحقیقات اسے محفوظ قرار دیتی ہیں۔ لیکن اب ایک سال تک چوہوں پر کئے گئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ خود بی پی ایس والے پلاسٹک بھی کم نقصاندہ نہیں ۔ یہ جین کی سرگرمی کو متاثرکرتے ہیں، ماں کے پیٹ میں بچوں کی دماغی خرابی کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ نشوونما کو متاثر کرتے ہوئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس ضمن میں پہلے ایک گولڈ فش پر تحقیق کی گئی جو ایک ماہ تک بی پی اے اور بی پی ایس والے ماحول میں رکھی گئی تھی۔ یہ تحقیقی بائے ریوتھ یونیورسٹی نے کی ہے جس میں مچھلی کے دماغ کا الیکٹروفزیالوجیکل جائزہ لیا گیا تھا۔ اس میں مچھلی کے دو بڑے دماغی خلیات پر غور کیا گیا جو موتھنر سیل کہلاتے ہیں اور اسے کئی طرح کے احساس اور شکار سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین نے نوٹ کیا کہ پلاسٹ کے یہ اجزا مچھلی کے پورے اعصابی نظام کو متاثر کررہے ہیں۔ تحقیق سے وابستہ ایلسبتھ شرمر کہتی ہیں کہ مچھلیوں میں آہستہ آہستہ یہ نقصان رونما ہوا اور ایک ماہ میں اس کی واضح علامات سامنے آئیں۔ خیال ہے کہ عین اسی طرح بی پی ایس انسانوں کو بھی متاثرکرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ بالغ انسان کے دماغ پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے زور دیا ہے کہ پلاسٹک صنعت پی بی ایس کی جگہ کوئی نیا متبادل کیمیکل استعمال کرے کیونکہ یہ انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ 

Related Posts