loader

روشنی اور جینیاتی تبدیلی سے نابینا شخص کی بصارت جزوی بحال

  • Created by: editor
  • Published on: 25 May, 2021
  • Category: Fitness / Fitness
  • Posted By: Editor

Post Info

پیرس: طویل عرصے سے نابینا شخص کو جینیاتی تبدیلی اور بصریات (آپٹکس) کی مدد سے اس قابل بنایا گیا ہے کہ وہ جزوی طور پر دیکھ سکتا ہے۔ اس پورے عمل کو آپٹوجینیٹکس کا نام دیا گیا ہے جس میں بصارت کے ذمے دار خلیات کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی کمپنی ’جین سائٹ بائیلوجِکس‘ نے اپنے ابتدائی نتائج سائنسی جریدے نیچر میں شائع کرائے ہیں۔ اس میں دنیا کے پہلے شخص کی تفصیل بتائی گئی ہے جوآپٹوجینیٹکس کے علاج سے گزرا ہے اور مکمل طور پر نابینا شخص تجربہ گاہ میں کئی آلات دیکھ کران کی شناخت کرسکتا ہے۔ ’ہم انسانی آپٹوجینیٹکس پر اپنی پہلی تحقیق پیش کرنے پر بہت خوش ہیں،‘ منصوبے میں شریک ایڈ بوئڈن نے بتایا جو میساچیوسیٹس انسٹٰی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔

اگرچہ آپٹوجینیٹکس تجربہ گاہ میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے کیونکہ اس کی بدولت دماغی خلیات کو کچھ اس طرح بدلا جاتا ہے کہ وہ روشنی کے ردِ عمل میں سگنل خارج کرتے ہیں۔ جانوروں پر کی گئی تحقیق سے اس کے کئی فوائد اور دریافتیں سامنے آئی ہیں۔ لیکن انسانون پر اسے محدود پیمانے پر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دماغ کے اندر مخصوص روشنی پہنچانے کے لیے اعلیٰ فائبر آپٹکس ٹیکنالوجی اور پیچیدہ جراحی کی ضرورت پیش آتی ہے۔

آنکھ کے کئی عارضوں کا علاج آپٹوجینیٹکس سے کیا جاسکتا ہے اور ایسی ہی ایک بیماری ’ریٹی نائٹس پگمینٹوسا‘ ہے۔ یہ ایک موروثی کیفیت ہے جس میں ریٹینا متاثر ہوتا ہے اور روشنی محسوس کرنے والے خلیات ختم ہونے لگتے ہیں۔ اب جین سائٹ کے طریقہ علاج میں آنکھ میں روشنی محسوس کرنے والی پرت کے نیچے اعصابی خلیات میں الجی میں پایا جانے والا ایک جین بھی داخل کیا گیا۔ اس کی خاصیت ہے کہ جب اس پر نارنجی رنگ کی روشنی ڈالی جاتی ہے تو بصری خلیات سرگرم ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے مریض کو ایک خاص قسم کی عینک پہنائی گئی جس میں کیمرے اور پروسیسر لگے تھے اور وہ عام روشنی کو نارنجی بنارہے تھے۔

دنیا میں سے سے پہلے اس ٹیکنالوجی کو 58 سالہ فرانسیسی پر آزمایا گیا ہے ۔ اب وہ زیبرا کراسنگ دیکھ سکتا ہے۔ فون اور فرنیچر وغیرہ میں تمیز کرسکتا ہے اور تجربہ گاہ میں کئی اشیا کو  شمار کرسکتا ہے۔ لیکن توقع ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بصارت مزید بہتر ہوتی جائے گی۔ 

Related Posts