loader

دنیا کشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتی! ہم سب خطرے میں ہیں : وزیر اعظم خان

  • Created by: Talha Zubair Bin Zia
  • Published on: 31 Aug, 2019
  • Category: /
  • Posted By: Admin

Post Info

 

دنیا کشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتی!
ہم سب خطرے میں ہیں : وزیر اعظم خان

پچھلے اگست میں پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ، میری اولین ترجیحات میں سے ایک یہ تھا کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے کام کیا جائے۔ ہندوستان اور پاکستان مل کر ہماری مشکل تاریخ کے باوجود ، غربت ، بیروزگاری اور آب و ہوا کی تبدیلی جیسے خاص چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہیں ، خاص طور پر ہمارے سیکڑوں لاکھوں شہریوں کے لئے گلیشیر پگھلنے اور پانی کی قلت کا خطرہ جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے
میں تجارت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا تھا انتخانات میں کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب کے دوران میں نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ اس کے بعد ، ستمبر 2018 میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہمارے دونوں وزرائے خارجہ کے مابین ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا ، لیکن ہندوستان نے اس ملاقات کو منسوخ کردیا۔اس ستمبر میں میں نے مودی کو تین خطوط بھی لکھے جس میں امن مزاکرات کی دعوت دی گئی ۔ بد قسمتی سے ہماری تمام کوششوں کو رد کر دیا گیا ۔ ابتدامیں ہم نے فرض کیا کہ مودی کے جنگی جنونیت اور سخت بیانات کا مقصد الیکشن میں وطن پرستی کو استعمال کرنا تھا ۔ان انتخابات سے قبل ایک خؤدکش حملے کے نتیجے میں فوجیوں کی ہلاکت کا الزام بھی فوری طور پر پاکستان کو دیا گیا ۔ ہم نے ثبوت مانگے ، لیکن مسٹر مودی نے فضائیہ کے لڑاکا طیاروں سے حملہ کرنا چاہا ۔ ہماری فضائیہ نے ایک ہندوستانی طیارہ کو مار گرایا اور پائلٹ کو پکڑ لیا۔ ہم نے اشارہ کیا کہ ہم اپنا دفاع کرسکیں گے لیکن کسی ایسے ہدف پر حملہ نہ کرنے کا انتخاب کیا جس سے جان کا نقصان ہو۔ میں نے شعوری فیصلہ کیا کہ پاکستان کا دو ایٹمی ریاستوں کے مابین تنازعہ کو بڑھاوا دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اسی تناظر میں ہم نے بغیر کسی شرط کے قید ہندوستانی پائلٹ کو واپس کردیا۔
مسٹر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے بعد 23 مئی کو ہم نے انہیں مبارک باد دی اورامید کی کہ ہم خطے میں امن و خوشحآلی کے لئے کام کر سکتے ہیں ۔ جون میں مودی کو ایک خط بھیجا جس میں امن پر بات کرنے کے لئے پیشکش کی گئی ۔ بھارت نے جواب نہ دینے کی روایت کو برقرا ر رکھا ۔ اور ہمیں معلوم ہوا کہ جب ہم امن کے لئےکوششیں کر رہے تھے تو بھارت پاکستان کو فناشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ کرنے کے لیے لابنگ کر رہا تھا ۔ جس سے سخت معاشی پابندیاں عائد ہوتیں اور ہمیں دیوالیہ پن کی جانب دھکیل دیا جاتا ۔
ظاہر ہے کہ مسٹر مودی نے ایٹمی ہمسائے ہونے کے ناطے ہماری امن کی خؤاہش کو غلط سمجھا۔ ہم نئی حکومت کے خلاف نہ تھے ہم اس نئے نظام کے خلاف تھے جس میں ایک خاص طبقہ فکر کے رجحان کے مطابق حکومت کی جاتی جو کہ ہندو انتہا پسند جماعتوں کی پیدا وار ہیں جن میں راشٹریہ سویم سیوک اور آر ایس ایس شامل ہیں ۔
انڈین پرائم منسٹر اور پارلیمنٹ کے بیشتر رہنما آج بھی آر ایس ایس کے ممبر ہیں ۔ جن کے بانی نے ایڈولف اور مسولینی جیسے افراد کی تعریف کی تھی مودی نے آر ایس ایس کے دوسرے اعلی ترین رہنما کے بارے میں بڑی عقیدت سے "پوجنیا شری گرو جی " لکھ تھا ۔
مسٹر مودی کے گرو نے 1939 میں لکھئی گئی کتاب ، ہم ، ہماری قوم کی تعریف ،میں لکھا ہے
جرمنی نے اپنی قوم اور ثقافت کو برقرار رکھنے کے لئے برابر میںموجود تمام ثقافتوں کا صفایا کر تے ہوئے دنیا کو حیران کر دیا ۔اور جرمنی نے یہ بھی ثابت کیا کہ دو ثقافتوں کا ایک ساتھ رہنا بھی ناممکن ہے ۔ ہمارے اختلافات ہماری جڑؤں میں جا چکے ہیں جس کے سبب ہم متحد نہیں ہو پا رہے ۔ ہمارے لئے اس وقت ہندوستان میں ایک اچھا سبق اور موقع ہے جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں
میں نے امید کی تھی کہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد مسٹر مودی ہندوستانی ریاست گجرات کے وزیر اعلی کی حیثیت سے اپنائےگئے پرانے طریقوں کو پس پشت ڈال سکتے ہیں ، جب انھوں نے 2002 میں مقامی مسلمانوں پر ظلم دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ کرنے پر عالمی سطح پر بدنامی حاصل کی تھی اور انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ویزہ نہ ملنے کی اس لسٹ میں سلوبوڈان میلوسیک کے بھی ساتھی شامل ہیں ۔
مسٹر مودی کے وزیر اعظم کے طور پر پہلی بار انتہا پسند ہندو ہجوم کے ذریعہ مسلمانوں ، عیسائیوں اور دلتوں کو مارا پیٹا گیا ۔ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں ہم نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف ریاستی تشدد میں اضافہ دیکھا۔ پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنیں متعارف کروائی گئیں اور اس کا مقصد نوجوان کشمیری مظاہرین کی آنکھوں پر تھا ، جس نے سینکڑوں افراد کو بینائی سے محروم کردیا۔
5 اگست کو اپنے انتہائی شاطرانہ اور گھناؤنے انداز میں ، مسٹر مودی کی حکومت نے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو بدل ڈالا ۔ یہ اقدام ہندوستان کے آئین کے تحت غیر بھی قانونی ہے ، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں اور ہندوستان اور پاکستان کے مابین شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اور مسٹر مودی کے "نیو انڈیا" نے کشمیر میں فوجی کرفیو نافذ کرکے ، اس کی آبادی کو گھروں میں قید کرکے اور ان کا فون ، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کنکشن منقطع کرکے ، دنیا یا ان کے پیاروں کی خبروں کے بغیر ، اس کا انتخاب کیا۔ اس محاصرے کے بعدفوج نے ہندوستان بھر میں ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ جب کرفیو اٹھایا جائے گا تو کشمیر کے خون میں نہانے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی ، کرفیو کی مخالفت میں سامنے آنے والے کشمیریوں پر گولیاں برسا کر شہیدکیا جارہا ہے۔
اگر دنیا کشمیر اور اس کے عوام پر بھارتی محاذ آرائی کے لئے کھڑی نہیں ہوتی تو ، پوری دنیا کے لئے نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ ایٹمی مسلح دو ریاستیں جنگ کے لئے براہ راست آمنے سامنے ہوں گی ۔ ہندوستانکے وزیر دفاع نے بیان جاری کیا ہے جس میں پہلے نیوکلیئر حملہ کرنے کا عندیہ دیا گیا ۔ پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی موجودہ صورتحال پر منحصر ہے ۔
جوہری جنگ کے سائے جنوبی ایشیا پر منڈلا رہے ہیں ۔ ہمیں یہ احساس ہوچکا ہے کہ پاکستان ، بھارت کو مسئلہ کشمیر ، مختلف اسٹریٹجک امور اور تجارت پر بات چیت شروع کرنے کے لئے اس سوچ سے نکلنا ہوگا کہ اس حل سے کسی ایک فریق کا لازمی نقصان ہوگا ۔ کشمیر پر ، بات چیت میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا کشمیریوں کو شامل کرنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے وعدے کے مطابق حل کیا جانا چاہیئے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نےحق خود ارادیت کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے متعدد آپشنز تیار کئے ہیں۔

مترجم : طلحہ زبیر بن ضیا

Related Posts