loader

امریکہ اورطالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر آج دستخط ہوں گے۔

  • Created by: editor
  • Published on: 29 Feb, 2020
  • Category: International / International
  • Posted By: Editor

Post Info

امریکا اور طالبان کے درمیان دو دہائیوں پرمحیط طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدہ آج قطر میں ہوگا۔تفصیلات کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اورطالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف تاریخی بلکہ افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین قدم ہوگا۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی پاکستان کے نمائندے کے طورپرآج دوحہ میں امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کی دستخطوں کی تقریب میں شرکت کریں گے۔جبکہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت پچاس ممالک کے نمائندے معاہدے پردستخطوں کی تقریب میں شرکت کریں گے۔افغان حکام کی جمعے کو قطر میں طالبان اراکین سے ملاقات ہوئی ہے جس میں امریکا اور طالبان کے معاہدے سے قبل قیدیوں کی تبادلہ کے منصوبہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان حکام نے مستقل جنگ بندی کیلئے طالبان 5 ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہو گا جب کہ اس کے جواب میں طالبان یہ ضمانت دیں گے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں ہوگی۔اس حوالے سے وزیرخارجہ شا ہ محمودقریشی نے پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان امن معاہدے سے خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے روابط بڑھیں گے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ امن واستحکام سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے شاندارمواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن سے پاکستان کوکاسا1000منصوبے سے استفادہ کرنے اورملک میں توانائی کے بحران پرقابوپانے میں مدد ملے گی۔وزیرخارجہ نے مزید کہا پاکستان نے امن کے لئے اپنی سیکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کی قربانیاں دے کربھاری قیمت اداکی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ افغان عوام موقع سے فائدہ اٹھائیں، امن معاہدے سے نئے مستقبل کا موقع مل سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اُن کی ہدایات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو طالبان نمائندوں کے ساتھ سمجھوتے کی تقریب میں شامل ہوں گےجبکہ وزیر دفاع مارک ایسپر افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔  

Related Posts