loader

عورت کا کردار اور معاشرہ

  • Created by: Talha Zubair Bin Zia
  • Published on: 14 Sep, 2019
  • Category: Article
  • Posted By: Editor

Post Info

عورت کا کردار اور معاشرہ
ہمیشہ سے ایک بات سنتے آئے کہ عورت مرد کا ایک حصہ ہے ۔ کم عقل ہے ۔ اس کا واحد فرض صرف اپنے شوہر کی خدمت کرنا ہے ، ۔۔۔ "صرف شوہر کو "سرو" کرے" ۔۔
بیوی کو ویٹرس سے زیادہ عزت دینا لازم ہے کیونکہ اس نے ہر حال میں آپ کے بچو ں کی تربیت کرنی ہے ۔ تاریخ میں جو جو اندھا دھند صرف شادیاں کرتے رہے جنہوں نے مقصد نہ رکھا کہ ان کی اولاد بھی ان کے نقش قدم پر چلے۔ ان کا پیغام کچھ عرصہ تک چلا ۔جب تک وہ تھے سلطان علاو الدین سمیت بے شمار بڑے نام ایسے تھے ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ جنہوں نے اپنے بچوں کو اپنے نقش قدم پر چلانے کے لئے بیوی "مقصد" والی چُنی اور اس کے ساتھ اپنی اور اس کی تربیت جاری رکھی۔۔۔ انہوں نے زندگی کے ساتھ شادی کا بھی مقصد رکھا ۔ وہ لوگ نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ انہوں نے جو تاریخ رقم کی کچھ یوں تھی کہ تاریخ حیران رہی ۔ سلمان شاہ پھر ارتغل پھر عثمان سلطان پھر اس کی اولاد میں سے ہی سلطان مراد اور پھر قسطنطنیہ فتح کرنے والے سلطان محمد فاتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ در اصل آپسی چقلش کو بہانہ بنا کر تمام تر الزام عورت کے سر ڈالنا اور پھر اس کو ناقص العقل کہ کر پورے خاندان میں مساجد میں مدارس آپسی محافل میں جہاں جہاں تضحیک ممکن ہو وہاں وہاں تضحیک کرنا اور اتنی تضحیک کرنا کہ اصل شناخت و مرتبہ کے ساتھ ساتھ خاتون کی خودی بھی مر جائے ۔ ۔اور اور اس کے ساتھ مرد کے برتر ہونے کے احساس نے سب سے لازم چیز گنوا دی ۔۔ اس نے عورت کو بے وقوف اور جاہل سے کمتر رتبے کا سمجھا اور صرف جنسی ضرورت کا ایک کھلوناسمجھ لیا ۔ آج بھی جو لوگ "مدارس "میں بذات خود پڑھے ہوں وہی جانتے ہیں کسی باہر والے کو اندر کے حالات کی خبر بالکل بھی نہیں لگتی ۔۔۔ بلا شبہ یہی وجہ ہے کہ نسل در نسل جہل آپ کے کاندھے پر بڑے فخر سے بیٹھا آ رہا ہے کیونکہ امت کی ماوں نے بچے تو پیدا کئے مگر تربیت بانجھ ہو گئی ۔ وقت تھا کہ ماں وضو کر کے شہسوار بنانے کے لئے دودھ پلاتی ۔ اور باپ کبھی اپنی خاتون کی تضحیک نہ کرتا کہ عورت غصے سے بول رہی ہو اور وہ ہنس رہا ہو ۔۔
بلا شبہ زندگی میں کچھ کامل نہیں نہ مل سکتا ہے چھوٹی موٹی چقلشیں لازم ہیں مگر ان کو زیادہ اٹھانا نہیں چاہئے تھا ۔ الٹے سیدھے شادی کے لطیفے بنا کر کر اس رشتے کو ہی "ضائع" کیا گیا ۔ اولاد کے سامنے ہونے والے جھگڑے جب انتہا پر پہنچنے لگے تو ان کی سیدھی سوچ تھی کہ شادی کی بجائے ضرورت پوری کرنے کے لئے جب متبادل موجود ہے تو کیوں اس جانب جایا جائے ۔ نہ مرد نے درگزر کیا نہ عورت نے تربیت کی۔ اور معاشرے جہل کی اس نہج پر آ گیا کہ اپنے بچوں کو "پڑھانے" کے لئے سکول بھیجنا پڑا ۔ بچے کا سات سال تک کسی قسم کے سکول سے کوئی واسطہ ہے ہی نہیں ۔ بچے کی تمام تر تربیت کی زمہ داری اس کی ماں کی تھی ۔اس کو ہم ناقص العقل کہ ناکارہ جان کر اور اس کو ایک ویٹریس سے بھی کم عزت دے کر ثابت کر دیا کہ تربیت تو دور کی بات اس کی اوقات تو گھر کی باندی کی بھی نہیں ۔جس کا نتیجہ ہم بھگتتے رہے ہیں اور اس کو دیدہ دلیری سے ڈیفنڈ بھی کرتے آ رہے ہیں ۔ عورت کے بارے میں جتنے احادیث ہیں یہ مرد کی تربیت کرنے کے بعد کے لئے تھیں نہ کہ ان کو گھٹیا ثابت کرنے اور مرد کو برتر اور بہتر ثابت کرنے کے لئے ۔ ہم نے پی ایچ ڈی پہلے کروائی اور نرسری کلاس کو سائڈ پر کر دیا۔ ہم نے عورت کو باندی ثابت کرنے کے لئے اطاعت کروانے کی احادیث مجمع میں چیخ چیخ سنانا تو فرض سمجھ لیا لیکن اس کو اسکا فرض بتانا بھول گئے ۔ صرف بھولے نہیں ۔ ہم نے اس کو فرض پورا نہ کرنے پر اس کی حجتیں بھی نکال دیں ۔ وہ حجتیں یہاں ناقابل بیاں ہیں کیونکہ فتویٰ ازم پاکستان کا بہت مضبوط ہے ۔ ایک حجت جو ہر ایک کے پاس ہوتی ہے وہ ہے وقت کا نہ ہونا ۔۔۔ جبکہ یہی حضرت اپنے دوستوں کے ساتھ دبئی گھوم آئیں گے لیکن ان کے پاس بچوں کے لئے وقت نہ ہوگا ۔ باقی حجتیں مذہبی بھی ہیں معاشرتی بھی ہیں اور ان میں سے پچانوے فیصد حجتیں کسی کام کی ہیں ہی نہیں ۔۔۔ ان کو صرف بہانے کہا جا سکتا ہے ۔
مرد کے کرنے والے تمام کام پہلی ترجیح تھے ۔ جن کو اس نے پس پشت ڈال دیا اور صرف اور صرف عورت کو الزام دینا شروع کیا ۔ جس میں سب سے پہلا کام گھر میں اعتدال برقرار رکھناماں بیوی اور بہنوں کے درمیان ۔ بلا شبہ جوائنٹ فیملی نام کی لعنت اسلام میں پائی ہی نہیں جاتی کجا یہ کہ اس کی حجت بھی نکالی جائے ۔ جب مرد اپنے سب سے پہلے کام میں ہی ناکام ہو گیا تو اس ناقص العقل مرد کا کام نہیں بنتا کہ وہ عورت کو کسی چیز کا الزام دے ۔
فیمن ازم کا فتنہ بلاوجہ سر اٹھا کر کھڑا نہیں ہو گیا ۔ اپ کو جو احادیث بتائی گئیں تھی کہ صرف تربیت کے اوقات میں بتائیں تربیت کے اوقات جب آپ کے پاس تسلسل سے آنے والے افراد جن کی "باقائدہ تربیت"کی جا رہی ہو ۔
آپ نے مساجد کے خطبوں میں ۔ مزہبی اجلاسوں میں ۔ مذہبی جلسوں میں ۔ مذہبی اجتماعات میں ۔۔ ہر جگہ ہم ببانگ دہل ثابت کیا کہ یہ عورتیں توصرف ایک ویٹریس ہیں گھر میں ۔ ان کا کام ہے کہ صرف سرو کریں ۔ آج تک میں نے کسی مولوی صاحب سے یہ نہیں سنا کہ تربیت ماں کا کام ہے ۔۔ اورپوری تاریخ میں تربیت صرف ماں نے ہی کی ہے ۔ باپ کا تربیت میں ہاتھ صرف بیس فیصد ہے اس سے زیادہ نہیں ۔ اس کا کام عمل سے پورے خاندان کی تربیت تھا ۔ جو اس نے ڈنڈے سے لینا چاہا ۔ اور تشدد کے سبب انسان اپنی آپ کھو دیتا ہے جس میں تمام صلاحیتیں مثبت سوچ روح کے ساتھ تعلق سب شامل ہے ۔ جس کے بعد جب وہ معاشرے میں نکلتا ہے تو معاشرےکے وہ تمام عوامل جو کہ انسان کو انسان بناتے ہیں وہ کہیں نہیں پائے جاتے ۔ کہیں بھوک برداشت نہیں کی جاتی ۔جنسی آزادی جو کہ پاکستان میں "کھلے عام" موجود ہے جس کو چاہے پکڑ کر ریپ کر دیں اور مدارس میں موجود اس جنسی گھٹن کو ہم سب جانتے ہیں ۔یہی اس کے حیوان بننے کا مکمل راستہ فراہم کرتی ہے ۔ روح سے تعلق تشدد سے ختم ہو چکا ہوتا ہے اور جنسیت کی بھوک اس کو کھا رہی ہوتی ہے اور وہ حیوان سے بد تر ہو چکا ہوتا ہے تو ماں باپ کو یاد آتا ہے کہ شادی کر دیں ۔۔ اور شادی "صرف " جنسی بھوک کے لئے کی جاتی ہے ۔بھاڑ میں جھونکئے تمام مقاصد و تربیت ۔ اور جنسی بھوک کے بعد عورت کی وقعت ایک ویٹریس کی باقی رہ جاتی ہے ۔پھر جب یہ بچے جوان ہوتے ہیں تو پھر ہمارے علما خطبہ جمعہ میں کہتے ہیں نوجوان فحاشی کی جانب جا رہے ہیں ان کی تربیت نہیں ہے دین سے دور ہیں ۔
آپ نے جب تربیت کی ہی نہیں تو دکھ کس چیز کا مناتے ہیں ۔۔۔
حق ہمیشہ وہی نہیں جو آپ کی سوچ کے مطابق ہو ۔۔ سو حقائق کو تسلیم کرنا لازم ہے چاہے ہمارے عقیدے ہماری سوچ اور ہمارے فرقہ سمیت بے شک ہمارے ذاتی طور پر بھی خلاف ہو
یہ کسی لبرل گھرانے کی نہیں ان گھرانوں کی مثالیں ہیں جن می ہر کام سے پہلے احادیث پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ۔۔
بقلم طلحہ زبیر بن ضیا
 

Related Posts