loader

مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور

  • Created by: Talha Zubair Bin Zia
  • Published on: 24 Sep, 2019
  • Category: Article
  • Posted By: Editor

Post Info


دنیا میں ازل سے طاقت کا دستور رہا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے محاورے پر دنیا ازل سے قائم ہے ۔ ہابیل قابیل سے شروع ہوا اج تک انسان نے ہر معاملہ لڑکر حل کیا ۔ جہاد بلاوجہ فرض نہیں ہوا ۔ ہمارے تما م کتبہ فکر کے علما کے نزدیک ان کا ذاتی فرقہ ہمیشہ مقدم رہا ہے ۔ اگر وہ اہلحدیث ہیں تو کٹر قسم کے جہاد کے حق میں ہوں گے ۔۔ دیوبند ہوں گے تو ان میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک وہ جو بلکل ہی ٹی ٹی پی کی حمایت کر جاتے ہیں اور دوسرے وہ جوجہاد صرف تبلیغ کو مانتے ہیں اس سے آگے تمام جہاد صرف تب ہوں گے جب خلافت آئے گی ۔ اس کے علاوہ سنی طبقہ فکر ان دونوں کے خلاف دلائل دے گا اور آپ ان میں سے کسی بھی مکتبہ فکر کے ساتھ بیٹھ جائیں دلائل کے انبار آپ کو کنفیوز کر دیں گے کہ یہ تو بلکل ٹھیک کہ رہے ہیں ۔۔ اور یہ اقبال کو بھی پڑھ ڈالیں گے اور قرآن و احادیث کو بھی پڑھ ڈالیں گے ۔ اب ہم علم رکھتے بھی ہوں تو اکثریت تاویلات نکال کر پیش کرے گی نہیں اس معاملے کا مطلب بلکل یہ نہیں ۔۔ بلکہ جو انہوں نے بیاں کیا صرف وہ تھا ۔
اقبال نے کیاخوب کہاتھا ۔
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
اب ایک مکتبہ فکر کے مطابق اس دور میں جہاد نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں لیکن ان کے مطابق طالبان جہاد کر رہے ہیں ۔ طالبان کی جدوجہد ایک عظیم باب ہے ۔ پاکستان نے آج تک جتنی جنگیں لڑی ہیں ۔ جو جنگ کسی فرقے کے مفاد میں تھی وہ جہاد شمار ہوئیں اگر کسی کے مفاد میں نہ گئیں تو وہ ظلم بن گیا ۔ جماعت اسلامی ہمیشہ افغان وار کی سپوٹر رہی اور جب وہاں ان کا مفاد ختم ہوا تو رشیا وار بھی امریکہ کی جنگ بن گئی ۔ جبکہ القائدہ کے بے شمار ممبر پاکستان کے ہیں اور ان کو ایکسپورٹ جمیعت نے کیا تھا ۔ اور آج کے بچے تو نہیں لیکن ان کے بڑے بہت اچھے سے یہ بات جانتے ہیں ۔ قاضی صاحب بذات خود افغانستان جا کر فوٹو شوٹ کروا کر آئے اور وہ کالجز میں دیکھا کہ رشیا اور امریکہ کی جنگ کے خلاف استعمال ہوتا رہا ۔ اس کے بعد مفاد ختم ہوا تو امریکہ کی جنگ بن گئی اور طالبان تک کے بارے میں ان کے چند ایک نے کہ دیا کہ اندرونی مسئلہ ہے ۔
اب بات چونکہ جہاد کی ہو رہی تھی تو آج بھی جو قوم آگے بڑھ کر وار کر رہی ہے وہ کامیاب ہو رہی ہے ۔یہاں تک کہ ترکش آرمی کئی مرتبہ شام میں داخل ہوئی اور طیب اردگان کی دھمکی کے سبب کردش فوج شام کے باڈر سے دور ہوئی ۔ یہ زیادہ دور کی بات نہیں چند دنوں قبل کی بات ہے ۔ اب ہم نے انداز بدلا اور امن امن اور تبلیغ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ۔ اور دنیا میں آج تک جس جس نے امن کا لالی پاپ لیا ۔ وہ تاریخ میں عبرت ناک شکست سے دوچار ہوا ۔ ہاں تبلیغ لازم ۔ علم لازم ملزوم ۔۔ لیکن صرف تبلیغ اور صرف تربیت نہ کبھی کامیاب تھی نہ ہے نہ ہو سکتی ہے ۔ امریکہ نے ہر ملک میں ٹانگ اڑائی اور سپر پاور بن گیا۔ چائنا نے ٹیکنالوجی مین بے شک ترقی کی ۔لیکن اس کی آرمی بہترین اور کی دھمکیوں کے سبب اور اس کی کاروئیوں کے سبب امریکہ تک کو بے چینی ہوئی اور آج اقوام متحدہ کے اجلاس میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم چائنا سے "صلح " چاہتے ہیں ۔
دنیا میں کبھی بھی "صرف"تبلیغی پروگرام کامیاب نہیں ہوا نہ ہوگا ۔ پاکستان جب تک جارحانہ رویہ اختیار نہیں کرتا نہ کشمیر کا مسئلہ حل کر سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کے باقی مسائل ۔ عالم کفر س وقت مسلمانوں میں ایک بڑے پیمانے پر سول شروع کروانے کےدرپے ہے اور ہم امن امن کا لالی پاپ ہی نہیں چھوڑ رہے ۔ ہماری صفوں میں بد ترین غدار گھس چکے ہیں اور ہم بھائی چارے کی گردان کر رہے ہیں ۔
بے شک میانہ روی ہی کامیاب رہی ہے ۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو بہترین حکمت عملی سے دشمن کو زیر کرے ۔ ہم نے جب تک جارحانہ رویہ نہ اپنایا ہم اسی طرح مرتے رہیں گے ۔ انڈیا نے اس وقت نہ روس کو ناراض کیا بلکہ امریکہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ۔ کیونکہ ٹرمپ کو آپ سے نہیں انڈیا سے مفاد ہے ۔ آپ کے پاس تو مواقع ہیں کہ کہ دنیا آپ پر انحصار کر رہی ہے ۔ آپ ان کے انحصار کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کریں وہ بھاگے چلے آئیں گے ۔ جبکہ تک حکمت عملی سے جارحانہ رویہ نہیں اپناتے ۔ تب تک آپ کو دنیا جوتے مارتی رہے گی ۔ جس دن آپ نے دشمن کو وہی دھوکہ دینا سیکھ لیا جو مشرف نے "شروعات" میں دیا تھا ۔ اور وہ دھوکہ جو جنرل حمید گل نے دیا تھا ۔ آپ کی بنیاد اس دن ہی بنے گی ۔۔ آپ کے پاس جارحانہ رویہ اور حکمت عملی ہونا لازم و ملزوم ہے تعلیم اور تربیت تو بچپن سے لیکر بڑھاپے تک ایک سفر کا نام ہے اگر اپ صرف اس کو ہی لے کر بیٹھ گئے تو پھر پوری دنیا میں ہونے والے ظلم و ستم پر رونا آپ کا بنتا نہیں ہے ۔
ارتغل کے کردار نویان کا ایک ڈائیلاگ تھا
"امن بزدلوں کے لئے ہوتا ہے "۔
امن دنیا میں ازل سے ابد تک کبھی نہ قائم ہوا ہے نہ ہی امن نام کی شے کبھی قائم ہو گی ۔
میرا دل چیخ چیخ کر اقبال کے یہ اشعار پڑھتا ہے
تعلیم اُس کو چاہیے ترکِ جہاد کی
دُنیا کو جس کے پنجۂ خُونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زِرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پُوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟


 

Related Posts