loader

کوئی بھی لوڈڈ کنٹینر نہیں پکڑا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ

  • Created by: editor
  • Published on: 31 Oct, 2019
  • Category: News / Social
  • Posted By: Editor

Post Info

اسلام آباد ہائیکورٹ میں آزادی مارچ کے پیش نظر کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی۔ درخواست کی سماعت کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پرائیویٹ لوڈڈ کنٹینر پکڑے ہیں؟ آپ نے جو کنٹینرز پکڑے ہیں اس میں سامان بھی ہے؟ جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ ہم نے کوئی کنٹینرز نہیں پکڑے، پیپرا رولز کے تحت لاہور کی ایک پارٹی کنٹینرز فراہم کر رہی ہے، کنٹینرز کے حصول کے لیے 6 کروڑ روپے میں ٹینڈر جاری کیا گیا۔ ڈپٹی ہائی کمشنر نے جواب کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے حکم دیا کہ کوئی بھی لوڈڈ کنٹینر نہیں پکڑا جائے گا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہمارے کنٹینر پکڑے گئے ہیں پھر ایس ایس پی کو سفارشیں کروا کے کنٹینر چھڑوائے گئے۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سفارش کروا کر؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کیا کریں پھر سفارش کے بغیر گزارا نہیں ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر کوئی کنٹینر پکڑے گئے تو انتظامیہ ان کا معاوضہ دے گی۔ لوڈڈ کنٹینر پکڑنا آرٹیکل 18 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت توقع کرتی ہے ڈی سی اسلام آباد قانون کےمطابق کام کریں گے۔ کنٹینر پکڑنے والے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی ہدایت ہے کہ کسی طور بھی قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ جس کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے آزادی مارچ کے پیش نظر کنٹیننرز کی پکڑدھکڑ کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست نمٹا دی۔
 

Related Posts